بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 ربیع الثانی 1448ھ 12 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عیسائی کے فوت ہونے پر دعاۓ مغفرت

سوال

کیا عیسائی کے فوت ہونے پر دعاۓ مغفرت کی جا سکتی ہے؟

جواب

کسی غیر مسلم کے انتقال کے بعد اُس کے لیے مغفرت کی دعا کرنا جائز نہیں ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے :

{ مَا کَانَ لِلنَّبِیِّ وَالَّذِینَ آمَنُوا أَنْ یَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِکِینَ وَلَوْ کَانُوا أُولِی قُرْبَی} [التوبة]

ترجمہ: نبی (ﷺ) اور ایمان والوں کے لیے روا نہیں کہ وہ دعائے مغفرت کریں مشرکین کے لیے اگرچہ وہ ان کے قریبی رشتہ دار ہوں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008200827
تاریخ08-05-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں