بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

روزے میں بلغم کا کیا حکم ہے؟

سوال

روزے میں بلغم کا کیا حکم ہے؟

جواب

روزے کی حالت میں بلغم کو اندر سے باہر نکال کر تھوک دینے سے روزہ فاسد نہیں ہوگا خواہ عمداً ہو۔  ہاں! اگر بلغم پیٹ سے منہ میں آکر رک جائے اور مقدار بھی زیادہ ہو اور اس کو قصداً نگل لیا جائے تو امام ابویوسف رحمہ اللہ کے نزدیک روزہ فاسد ہوجائے گااور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک فاسد نہیں ہوگا ؛  اس لیے احتیاط ضروری ہے، اور اگر بلغم کی مقدار کم ہو تو بالاتفاق روزہ فاسد نہیں ہوگا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008200819
تاریخ08-05-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں