بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا بھائی اپنی بہن کو روزے کا فدیہ دے سکتا ہے؟

سوال

کیا بھائی اپنی بہن کو روزے کا فدیہ دے سکتا ہے؟

 

جواب

بہن اگر مستحقِ زکات ہو (اور سید/ہاشمی بھی نہ ہوں) تو اسے بھائی فدیہ دے سکتا ہے، تاہم روزے کا فدیہ ادا کرنا اس شخص پر لازم ہے، جسے ایسی بیماری لاحق ہوگئی ہو جس سے آئندہ شفایاب ہونے کی امید باقی نہ رہی ہو اور روزہ رکھنے کی طاقت نہ بچی ہو، یا اتنا بڑھاپا آگیا ہو کہ روزے کی بالکل طاقت نہ ہو۔ البتہ اگر عارضی بیماری کی وجہ سے فی الحال روزہ رکھنے کی طاقت نہ ہو، تو ایسی صورت میں صحت یاب ہونے کے بعد روزوں کی قضا کرنا ضروری ہے، فدیہ ادا کرنا کافی نہیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008200808
تاریخ08-05-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں