بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

گناہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو تو نکاح کا حکم / نکاح کے لیے وظیفہ

سوال

 مجھے گناہ کا شدید اندیشہ ہے میرے لیے شادی کی دعا کریں اور مجھے شادی کے لیے کوئی دعا یا وظیفہ بھی بتائیں!

جواب

اگر اسباب اور وسائل  میسر ہوں تو نکاح کے لیے کوشش کریں، گھروالوں کو اس کے لیے قائل کریں، گناہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو اور نکاح کے اسباب اور وسائل بھی میسر ہوں اور کوئی مانع بھی نہ ہو  تو نکاح کرنا واجب ہوجاتا ہے، لہذا جس قدر سادگی سے ہوسکے نکاح کرنے کی کوشش کریں۔ تکلفات سے اجتناب کریں، حدیث شریف میں ہے جس نکاح میں اخراجات کم ہوں اس میں برکت زیادہ ہوتی ہے۔

اگر اسباب اور وسائل میسر نہ ہوں یا کوئی اور پریشانی ہو تو اللہ سے صدق دل سے دعا کرتے رہیں اور کثرت سے مسلسل روزوں کا اہتمام کریں، نیز گناہوں سے بچنے کے لیے اور نکاح کے اسباب مہیا ہونے کے لیے پنچ وقتہ نمازوں کے اہتمام کے ساتھ  درج ذیل اعمال کریں:

1۔ صدقِ دل سے نمازوں کے بعداورتہجد و غروب کے وقت دعا مانگیں، نیز نمازعشاء کے بعد اول وآخر گیارہ گیارہ مرتبہ درود شریف اوردرمیان میں گیارہ سومرتبہ ’’یاَلَطِیْفُ‘‘ پڑھ کراللہ تعالیٰ سے دعاکریں۔ 

2۔ یا نمازِ عشاء کے بعد اول و آخر گیارہ گیارہ مرتبہ درود شریف اور درمیان میں 41 مرتبہ درج ذیل کلمات پڑھ کر دعا کیجیے:

’’وَمَنْ یَّـتَّقِ اللهَ یَجْعَلْ لَّه‘ مَخْرَجًا وًَیَرْزُقْهُ مِنْ حَیْثُ لَایَحْتَسِبْ وَمَنْ یَّـتَوَکَّلْ عَلَی اللهِ فَهُوَ حَسْبُه‘ ‘‘.

3۔  اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى وَالتُّقَى، وَالْعَفَافَ وَالْغِنَى

4۔  اللَّهُمَّ اكْفِنِي بِحَلالِكَ عَنْ حَرَامِكَ، وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ ، ان دعاؤں کے پڑھنے کا اہتمام کریں، ان شاء اللہ، اللہ تعالیٰ آسانی اور عافیت کا معاملہ فرمائیں گے ۔

5۔ صبح و شام ایک ایک مرتبہ سورہ واقعہ اور سورہ طارق روزانہ اس مقصد کے لیے پڑھنا بھی مجرب ہے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008200803
تاریخ08-05-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں