بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جائے نوکری میں نماز کا حکم

سوال

میں ایبٹ آباد کا رہنے والا ہوں،  میری سوات میں مستقل نوکری ہے، لیکن میں ہر جمعہ پر اپنے آبائی گاؤں واپس چلا جاتا ہوں، صرف پانچ دن سوات میں گزار لیتا ہوں،  میرے  لیے  نماز کا کیا حکم ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں آپ کی نوکری سوات میں جہاں ہے، وہاں نوکری ملنے کے بعد کبھی بھی پندرہ دن یا اس سے زیادہ رہنے کی نیت سے رہائش اختیار نہیں کی ہے تو آپ جائے نوکری میں مسافر شمار ہوں گے اور نماز میں قصر کریں گے، تاہم اگر آپ وہاں کبھی پندرہ دن یا اسے زیادہ عرصہ رہنے کی  نیت کر چکے تھے اور وہ نیت اب تک ختم نہیں کی ہے تو  جب تک اپنی نیت تبدیل نہیں کریں گے سوات آپ کا وطنِ اقامت  ہی شمار ہوگا،  جہاں آپ کو نماز مکمل ادا کرنی ہوگی۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008200802
تاریخ08-05-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں