کوئی جگہ بیچ کر اس سے انکار کرنے کا حکم
سوال
پانچ لوگوں کی ایک مشترکہ جگہ تھی, ان میں سے ایک نے ان سے وہ جگہ ادھار خرید لی، سب معاملات طے ہوگئے وقت وغیرہ، بعد میں تین نے انکار کر دیا کہ ہم نہیں بیچ رہے، ہم تو مہنگی بیچیں گے یا یہ کہ ہم بیچتے ہی نہیں۔ اس صورت میں کیا حکم ہوگا؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں جب تمام شرکاء نے مذکورہ جگہ اپنے ایک شریک کو بیچ دی تو ایسا کرنے سے وہ جگہ تمام شرکاء کی ملکیت سے نکل گئی اور وہ ایک شریک اس جگہ کا مالک بن گیا، اس کے بعد کسی کو اس بات کی اجازت نہیں کہ وہ خریدار کی رضامندی کے بغیر اس معاملہ کو فسخ کرے، ہاں! اگر خریدار اُس جگہ کو واپس کرنے پر راضی ہو جائے تو واپس کی جا سکتی ہے، وگرنہ اس کی رضامندی کے بغیر دیگر شرکاء کا بیچنے سے انکار کرنا شرعاً معتبر نہیں۔
الفقه الإسلامي وأدلته (5/ 56):
"حكم العقد: هو الغرض والغاية منه، ففي عقد البيع: يكون الحكم هو ملكية المبيع للمشتري وملكية الثمن للبائع". فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

