بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الثانی 1448ھ 08 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کوئی جگہ بیچ کر اس سے انکار کرنے کا حکم

سوال

پانچ لوگوں کی ایک مشترکہ جگہ تھی, ان میں سے ایک نے ان سے وہ جگہ ادھار خرید لی،  سب معاملات طے ہوگئے وقت وغیرہ،  بعد میں تین نے انکار کر دیا کہ ہم نہیں بیچ رہے، ہم تو مہنگی بیچیں گے یا یہ کہ ہم بیچتے ہی نہیں۔ اس صورت میں کیا حکم ہوگا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں جب تمام شرکاء نے  مذکورہ جگہ اپنے ایک شریک کو بیچ دی تو ایسا کرنے سے وہ جگہ تمام شرکاء کی ملکیت سے نکل گئی اور وہ  ایک شریک اس جگہ کا مالک بن گیا، اس کے بعد کسی کو اس بات کی اجازت نہیں کہ وہ خریدار کی رضامندی کے بغیر اس معاملہ کو فسخ کرے،  ہاں! اگر خریدار اُس  جگہ کو  واپس کرنے پر راضی ہو جائے  تو واپس کی جا سکتی ہے، وگرنہ اس کی رضامندی کے بغیر دیگر شرکاء کا بیچنے سے انکار کرنا شرعاً معتبر نہیں۔

الفقه الإسلامي وأدلته (5/ 56):
"حكم العقد: هو الغرض والغاية منه، ففي عقد البيع: يكون الحكم هو ملكية المبيع للمشتري وملكية الثمن للبائع". 
فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144008200784
تاریخ07-05-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں