بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مقروض ادارے کا زکاۃ وصول کرنا

سوال

’’۔۔۔۔ ‘‘ نامی ایک چیئریٹی ادارہ ہے جس کے نام پر مدرسہ کی تعمیر کے لیے ایک زمین خریدی گئی ہے، جس کی وجہ سے ادارہ مقروض ہوچکاہے،  اور ادارے کے پاس رقم کی ادائیگی کی کوئی دوسری شکل نہیں ہے تو کیا زکاۃ کی رقم سے اس ادارے کا قرضہ ادا کیا جاسکتا ہے؟

جواب

ادارے پر قرض زمین خریدنے کی وجہ سے ہوا ہے، یعنی ابھی نہ مدرسہ ہے اور نہ اس میں مستحقِ زکاۃ  طلبہ ہیں، لہذا اس زمین کی قیمت کی ادائیگی یا تعمیر کے لیے زکاۃ کی رقم وصول کرنا جائز نہیں ہے، نیز زکاۃ کی رقم طلبہ کے ذریعے تملیک کرکے بھی نہیں  دی جاسکتی ، زمین کی قیمت کی ادائیگی اور تعمیر کے لیے غیر زکاۃ  کی رقم جمع کریں اور اس سے قرض کی ادائیگی اور تعمیرات کیجیے۔

      " ویُشْتَرَطُ أنْ یَکُوْنَ الصَّرْفُ تَمْلِیْکاً لَا ابَاحَةً". (در مختار)

       "فَلَایَکْفِيْ فِیْها الْاطْعَامُ إلاّ بِطَرِیْقِ التَّمْلِیْکِ". (رد المحتار ۳/۲۹۱ ) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008200733
تاریخ06-05-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں