بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حمزہ رحمن نام رکھنے کا حکم

سوال

کیا حمزہ رحمن نام رکھنا درست ہے؟

جواب

’’حمزہ‘‘  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کا نام ہے، جنگِ احد  میں وحشی نامی غلام کے ہاتھوں شہید ہوئے۔ اس نسبت سے یہ نام رکھنا بہت بہتر ہے۔  اس کے ساتھ رحمٰن کی نسبت لگانے کی درست صورت یہ ہے کہ یوں نام رکھا جائے "حمزۃ الرحمٰن" یعنی رحمٰن کا حمزہ، اس طرح یہ نام رکھنا درست ہو گا۔ لیکن اردو ترکیب اور ہمارے ہاں استعمال میں اس کا درست تلفظ نہیں کیا جائے گا، اس لیے صرف ’’حمزہ‘‘ یا ’’محمد حمزہ‘‘ یا ’’حمزہ عبدالرحمٰن‘‘ نام رکھنا بہترہوگا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008200731
تاریخ05-05-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں