بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

آپ کی بہن کو چھوڑ دیا ہوں، لے جاؤ اسے اپنے گھر لے جاؤ، کہنے کا حکم

سوال

”ایک آدمی نے اپنے سالے کو موبائل میں اس طرح میسج بھیجا ”آپ کی بہن کو چھوڑدیاہوں، لےجاؤ ،  اسے اپنے گھرلےجاؤ“ پھراس بندے کے سالےنے چار/4 آدمی اس کے پاس بھیج دیے ”پھر اس بندے نےان چار/4 بندے کے سامنے یہ ہی کلمات دہراۓ۔۔۔ کیا ایسا کرنے سے طلاق ہوگی یانہیں؟  اگر ہوگی تو یہ طلاق کی کون سی قسم شمار ہوگی؟ 

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ الفاظ: " آپ کی بہن کو چھوڑ دیا ہوں، لے جاؤ اسے اپنے گھر لے جاؤ" کہنے سے ایک طلاقِ رجعی واقع ہوگئی تھی، پھر چار افراد کے سامنے مذکورہ شخص نے یہ الفاظ دُہرائے تھے اگر اس سے مقصود سالے کو کیے میسج کی خبر دینا  مقصود تھا تو اس سے مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی، تاہم  اگر اس سے خبر دینا مقصود نہ تھا تو چار افراد کے سامنے کہنے سے دوسری طلاقِ رجعی بھی واقع ہوجائے گی، بہر صورت شوہر کو دورانِ عدت رجوع کا حق حاصل ہوگا، رجوع نہ کرنے کی صورت میں عدت مکمل ہوتے ہی رجوع کا حق ختم ہوجائے گا، البتہ باہمی رضامندی سے نئے مہر کے ساتھ تجدید نکاح کرنے کی اجازت ہوگی۔ اور آئندہ اتنی طلاق کا حق ہوگا جتنی تین کے عدد میں سے باقی رہ جائیں گی، لہٰذا آئندہ احتیاط کرے۔  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008200718
تاریخ05-05-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں