بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا سعودی عرب والے بیس رکعت تراویح گھر میں پڑھ سکتے ہیں؟

سوال

 ہم یہاں سعودی عرب میں رہتے ہیں،  یہاں مسجدوں میں آٹھ رکعات تراویح پڑھی جاتی ہے،  تو  ہم کچھ ساتھی اپنے گھر میں بیس رکعات تراویح پڑھ لیں ؟  مسجد ہمارے گھر کے ساتھ ہے اور اس میں قراءت لاؤڈ اسپیکر میں پڑھی جاتی ہے تو کیا ہم اپنے گھر میں تراویح پڑھ سکتے ہیں با جماعت؟

جواب

اگر آپ لوگ اپنی  بیس تراویح گھر میں پڑھنا چاہتے ہیں تو پڑھ سکتے ہیں، لیکن عشاء کی نماز مسجد ہی میں ادا کریں، نیز ملحوظ رہے کہ تراویح میں دو چیزیں سنت ہیں:

 1. پورا مہینہ تراویح پڑھنا۔

2. تراویح میں قرآن پاک کی تکمیل کرنا۔

لہذا گھر میں تراویح با جماعت پڑھنے  کی صورت میں تکمیلِ قرآن کی سنت کا بھی اہتمام کریں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008200710
تاریخ04-05-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں