بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الثانی 1448ھ 08 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

 زندہ جانور کو تول کر اس کی بیع کا حکم

سوال

 زندہ جانور کو تول کر اس کی بیع کا کیا حکم ہے؟کیوں کہ کچھ حضرات یہ فرماتے ہیں کہ زندہ جانور کو تول کر اس کی بیع کرنا اس لیے درست نہیں کہ اس تولنے میں خون کی بیع بھی ہوجاتی ہے جو کہ حرام ہے جب کہ بنوری ٹاؤن کے ہی فتوی نمبر : 143811200072 میں قربانی کے جانور کوتول کر اس کی بیع جائز بتائی گئی ہے۔ مہربانی فرما کر مسئلہ کی وضاحت فرمائیں!

جواب

مذکورہ اعتراض کی کوئی حیثیت نہیں؛ کیوں کہ زندہ جانور (مثلاً قربانی کا جانور) بغیر تولے بیچا جائے تب بھی مبیع (جانور)  میں خون موجود ہوتاہے؛ جب بغیر تولے زندہ جانور کی بیع مع خون جائز ہے تو اسے تول کر  بیچنا اور خریدنا بھی جائز ہے؛  درحقیقت دونوں صورتوں میں مقصود جانور (گوشت وغیرہ) کی خریدو فروخت  ہوتی ہے، خون کی بیع کا قصد نہیں ہوتا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144008200674
تاریخ03-05-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں