بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نکاح کے لیے عمر کی حد

سوال

شریعت کم عمری میں شادی کی اجازت دیتیہے یا اس کے لیےکوئی عمر کی حد ہے؟

جواب

نکاح کے لیے شرعاً   کوئی متعین مدت نہیں ہے،  بلکہ عمر کے کسی بھی حصے میں نکاح ہوسکتا ہے۔ البتہ بلوغت سے پہلے لڑکا یا لڑکی خود نکاح کا عقد نہیں کرسکتے، بلکہ ان کا ولی (والد یا دادا وغیرہ) ان کے مصالح کو مدنظر رکھ کر نکاح کرسکتاہے، صحیح احادیث کے مطابق ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا نکاح چھ سال کی عمر میں ان کے والد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ  کردیا تھا، اور نو سال کی عمر میں آپ رضی اللہ عنہا کی رخصتی عمل میں آئی۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008200635
تاریخ01-05-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں