بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تین بیٹیوں اور بیوہ کے درمیان وراثت کی تقسیم

سوال

تین بیٹیوں اور بیوہ کے درمیان وراثت کیسے تقسیم ہو گی؟

جواب

اگر کسی شخص کے ورثاء میں صرف تین بیٹیاں اور ایک بیوہ ہو  تو اس کی وراثت تقسیم کرنے کی صورت یہ ہو گی کہ اولاً اس کے مال میں سے اس کی تجہیز و تکفین کے اخراجات اور قرضہ جات ادا کیے جائیں، پھر اگر کوئی جائز وصیت کی ہو تو اس کو ایک تہائی میں سے نافذ کیا جائے گا، اس کے بعد کُل جائے داد منقولہ و غیر منقولہ کو 24 حصوں میں تقسیم کر کے 3 حصے بیوہ کو اور ہر ایک بیٹی کو 7 حصے دیے جائیں گے۔

یعنی فی صد کے اعتبار سے 12.5 فی صد بیوہ  کو اور 29.16 فیصد ہر ایک بیٹی کو دیا جائے گا۔

واضح رہے کہ یہ تقسیم اس صورت میں ہے جب مرحوم کے والدین، بہن بھائی، بیٹا، پوتا، چچا اور بھتیجوں میں سے کوئی بھی موجود نہ ہوں، ان میں سےاگر کوئی ایک بھی  موجود ہو تو ترکہ کی تقسیم مختلف ہو گا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008200634
تاریخ01-05-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں