وکیل کا زکات کی رقم کسی کو ادھار دینا
سوال
زید نے عمر کو اپنی زکات کا وکیل بنایا، اب زید وہ زکات کے پیسے بکر کو ادھار دے سکتا ہے یا نہیں؟
جواب
جب زید نے عمر کو اپنی زکات ادا کرنے کا وکیل بنایا اور اس کو زکات کی رقم دے دی تو زید کے لیے جائز نہیں کہ وہ رقم کسی کو ادھا ر دے دے، بلکہ اس پر لازم ہے کہ وہ رقم کسی مستحقِ زکات کو مالک بنا کر حوالہ کر دے۔ فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر
144008200607
تاریخ30-04-2019

