بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 جُمادى الأولى 1448ھ 28 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عمیر نام کا مطلب

سوال

میرے نام عمیر کا کیا مطلب ہے؟ اس کو رکھنا  چاہیے یا تبدیل کردوں ؟

جواب

عمیر   عربی زبان میں لفظ عمر کی تصغیر ہے ۔ اور لفظ عمرجیسا کہ  اردو زبان میں بھی مستعمل ہے زندگی کے معنی میں ہے، اور عمیر کا معنی ہے:تھوڑی زندگی ۔ عربی زبان میں تصغیر جیسے کسی چیز کی حقارت اور کمی بیان کرنے کے لیے آتی ہے اسی طرح تعظیم اور محبت کے لیے بھی مستعمل ہے، لہٰذا عمیر کا معنیٰ چھوٹا عمر یا پیارا عمر بھی ہوسکتاہے۔ نیز یہ نام بہت سے صحابہ  کرام رضی اللہ عنہم کا پایا جاتا ہے ،  صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کے ناموں میں نسبت اصل ہے معنی کی حیثیت ثانوی ہے ۔ اس لیے تبدیل نہ کریں۔  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008200605
تاریخ30-04-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں