بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوہ دو بیٹوں میں میراث کی تقسیم

سوال

 ایک شخص فوت ہو جائے اور اس کے دو بیٹے ہیں, اور ایک بیوہ۔  ان میں میراث کس طرح تقسیم کی جائے گی؟  کیا باقی رشتہ دار بھی میراث میں شریک ہیں یا نہیں ؟

جواب

اگرمرحوم کے والدین حیات نہ ہو ں تو مرحوم کے ترکہ کا ساڑھے بارہ فی صد  (12.5)بیوہ کو  ملے گا، اور باقی ترکہ دونوں بیٹوں کے درمیان برابر تقسیم ہوگا۔باقی رشتہ دار وں کاترکہ میں حق نہیں ہے۔ اگر والدین دونوں یا کوئی ایک موجود ہو تو ان کا بھی حصہ ہوگا، اس صورت میں بیٹوں کے حصے میں فرق ہوگا۔ فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008200579
تاریخ30-04-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں