بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجد میں تراویح پڑھانے کی اجرت دینا

سوال

ایک مسجد کے امام صاحب کسی حافظِ قرآن کو کہتے ہیں کہ تراویح آپ پڑھا لو اور اس کے بدلے میں مسجد کو  30000 روپے دے دو؛ کیوں کہ مسجد مقروض ہے اور مسجد واقعی مقروض ہے، کیا امام مسجد کا مندرجہ بالا صورت میں پیسے لینا اور حافظِ قرآن کا تراویح پڑھانا ٹھیک ہو گا؟

جواب

مسجد میں تراویح پڑھانے کے لیے موقع فراہم کرنے کی بنیاد پر رقم لینا جائز نہیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008200571
تاریخ29-04-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں