بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حاملہ یا دودھ پلانے والی خاتون کے لیے رمضان کے روزوں کا حکم

سوال

 جو عورت حمل سے ہو کیا وہ رمضان کے روزے چھوڑ سکتی ہے؟

جو عورت بچے کو دودھ پلا رہی ہو کیا وہ رمضان کے روزے چھوڑ سکتی ہے؟

جواب

1۔اگر حاملہ خاتون کو اپنی یا اپنے بچہ کی مضرت کا گمان غالب ہو تو روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہوگی، بچہ کی پیدائش کے بعد قضا کرنا ہوگا، تاہم اگر مضرت کا گمان غالب نہ ہو تو روزہ رکھنا لازم ہوگا۔

2۔ دودھ پلانے والی خاتون کو اپنی مضرت کا گمان غالب ہو ، اور ماں کے دودھ کے علاوہ  بچہ کی غذا کا کوئی بند وبست نہ ہو تو روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہوگی،  بصورتِ دیگر روزہ رکھنا ضروری ہوگا۔

فتاوی تاتارخانیہ میں ہے:

"وقال في الاصل: إذا خافت الحامل أو المرضع على أنفسهما أو على ولدهما جاز الفطر و عليهما القضاء". ( ٢/ ٣٨٤، إدارة القرآن و العلوم الإسلامية) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008200566
تاریخ29-04-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں