بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 جُمادى الأولى 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

طواف کے نوافل حطیم میں ادا کرنے کاحکم

سوال

عمرہ کے طواف کے دو نفل حطیم میں پڑھنے کا کیا حکم ہے؟ کیا طواف کا بھی اعادہ ہوگا؟

جواب

واضح رہے کہ حطیم کا اندرونی کچھ حصہ (بیت اللہ کی دیوار سے متصل تقریباً دس فٹ) چوں کہ بیت اللہ کا جزو ہے؛ اس لیےطواف  حطیم کے باہر سے کرنا ضروری ہے ،البتہ طواف کے دو نفل کی ادائیگی کسی زمانے اور مکان کے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔ (عمدۃ الفقہ)

بہتر ہے کہ مقامِ ابراہیم کے پیچھے اداکیے جائیں،لہذا اگر کسی نے طواف کے دو نفل حطیم میں پڑھ لیے تو ادا ہوجائیں گے ،نہ نوافل کے اعادے کی ضرورت ہے اور نہ طواف کےاعادے کی ۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008200554
تاریخ29-04-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں