بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 جُمادى الأولى 1448ھ 28 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوی کے نفقہ کا وجوب

سوال

 میری بیوی اپنے سسرال نہیں رہتی اور میرے پاس رہائش نہیں ہے، میں ائیر بیس میں رہتا ہوں اور زوجہ اپنے گھر۔  سوال یہ ہے کہ کیا مجھے اپنی بیوی کو جیب خرچ دینا ہوگا اور کتنا دینا ہوگا؟

جواب

آپ اپنے کام کی جگہ پر رہتے ہیں اور بیوی بلا کسی نافرمانی کے  میکہ رہتی ہے، اس صورت میں آپ پر اس کا خرچہ لازم ہے، اور نان نفقہ سے مراد بیوی کا کھانا پینا، رہائش، اور کپڑوں کی ضروریات ہیں۔ اور اس کی مقدار کی تعیین دونوں کے عرف پر ہے، شرعاً  کوئی مقدار مقرر نہیں ، بلکہ متوسط اعتبار سے خرچ کرنا شوہر پر لازم ہے۔

شامی 2/897 باب النفقہ:

" أنها جزاءاً لاحتباس، وکل محبوس لمنفعة غیره یلزمه نفقته کمفتي وقاضٍ ووصي" . ( الدر المختار مع الشامي ۵ ؍ ۲۸۱-۲۸۲)

"تجب علی الرجل نفقة امرأته المسلمة والذمیة والفقیرة والغنیة دخل بها أو لم یدخل، کبیرةً کانت المرأة أو صغیرةً، یجامع مثلها، کذا في فتاویٰ قاضي خان. سواء کانت حرةً أو مکاتبةً، کذا في الجوهرة النیرة". ( الفتاویٰ الهندیة، کتاب الطلاق / الباب التاسع عشر في النفقات ، الفصل الأول ۱ ؍ ۵۴۴) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008200535
تاریخ28-04-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں