بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

غصہ میں خود کو کافر بول دینے کا حکم

سوال

غصہ میں خود کو کافر بول دینے کا حکم کیا ہے؟

جواب

اگر کوئی آدمی غصہ میں  صراحۃً اپنے  اختیار سے آپ کو کافر بول دے تو وہ اپنے قول کی وجہ سے کافر ہو جائے گا، اس کے لیے تجدیدِ ایمان اور تجدیدِ نکاح کرنا ضروری ہو گا۔

الفتاوى الهندية (2/ 283):
"رجل كفر بلسانه طائعاً، وقلبه مطمئن بالإيمان يكون كافراً، ولايكون عند الله مؤمناً، كذا في فتاوى قاضي خان".
فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008200510
تاریخ27-04-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں