بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا وکیل مطلوبہ چیز خود خرید کر زائد قیمت پر اپنے موکل کو فروخت کر سکتا ہے؟

سوال

زید نے بکر سے کہا کہ میرے  لیے قسطوں پر گاڑی خرید لو،  بکر نے جاکر دوکان سے اپنے لیے قسطوں پر گاڑی خرید لی،  مثال کے طور پر 50000 کی، پھر آکر وہی گاڑی زید کو قسطوں پر 60000 کی فروخت کردی،  کیا بکر کے  لیے یہ معاملہ کرنا جائز ہوگا؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں وکیل کے لیے ایسا کرنے کی شرعاً اجازت نہیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008200479
تاریخ26-04-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں