کیا وکیل مطلوبہ چیز خود خرید کر زائد قیمت پر اپنے موکل کو فروخت کر سکتا ہے؟
سوال
زید نے بکر سے کہا کہ میرے لیے قسطوں پر گاڑی خرید لو، بکر نے جاکر دوکان سے اپنے لیے قسطوں پر گاڑی خرید لی، مثال کے طور پر 50000 کی، پھر آکر وہی گاڑی زید کو قسطوں پر 60000 کی فروخت کردی، کیا بکر کے لیے یہ معاملہ کرنا جائز ہوگا؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں وکیل کے لیے ایسا کرنے کی شرعاً اجازت نہیں۔ فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر
144008200479
تاریخ26-04-2019

