بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بری عادات ترک کرنے کا طریقہ

سوال

کوئی شخص اگر انتہائی بے حیائی اور فحاشی میں مبتلا ہو، اس کی عادتیں بچپن سے اس کام کی عادی ہوں،  وہ چاہتا ہے کہ معجزاتی طور پر ہمیشہ کے لیے یہ برائی اس میں  سے ختم ہوجاۓ تو اس کا کوئی وظیفہ یا آسان حل بتائیں کہ  کیسے چھٹکارا ملےگا؟

جواب

گناہ چھوڑنے کے لیے وظائف معاون تو ہوسکتے ہیں، لیکن محض وظائف اس کے لیے کافی نہیں ہوتے ، گناہ چھوڑنے کے لیے عزم و ہمت کرنی پڑتی ہے، اس لیے اولاً تو سابقہ گناہوں پر سچے دل سے ندامت کے ساتھ توبہ واستغفار کرے،آئندہ گناہ نہ کرنے کا پختہ عزم کرے ، توبہ پر استقامت مانگے، اور گناہ سے بچنے کے اسباب اختیار کرے،  مثلا اگر تنہائی کے گناہ ہیں تو اپنےآپ کو تنہائی سے بچائے ،بری صحبت سے بچے، نیک صحبت اختیار کرے ، (ہوسکے تو کسی متبعِ شریعت عالم سے اصلاحی تعلق قائم کرلے) کثرت سے روزے رکھے ،گناہ ہوجانے کی صورت میں اپنے نفس کوایسے اعمالِ صالحہ اختیار کرکے  سزا دے جو اس پر بھاری گزریں، مثلاً دس ،بیس رکعات نوافل پڑھے،ایک دو وقت کا فاقہ کرے ،کچھ زیادہ رقم صدقہ کرے  اور ساتھ ساتھ اللہ تعالی سے مسلسل دعا بھی کرتا رہے تو امید ہے کہ گناہوں سے بچ جائے گا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008200468
تاریخ26-04-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں