بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حالتِ احتلام میں نمازیں پڑھ لیں تو کیا حکم ہو گا؟

سوال

میں گزشتہ رات جب سونے کے لیے لیٹا  تب شلوار پر احتلام کے اثرات محسوس ہوئے،  لیکن اس دن کی تمام نمازیں بھی ادا کی تھیں  اور صبح غسل بھی نہیں کیا تھا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں جب آپ نے سونے کے وقت اپنے کپڑوں پر احتلام کے اثرات دیکھے اور آپ کو یقین ہے کہ یہ منی ہی ہے تو ایسی صورت میں  آپ کے اوپر اُسی وقت سے غسل لازم ہو گیا تھا،  جب آپ سو کر اٹھے تھے، اگر دوپہر کو ان کپڑوں میں سوئے تھے تو ممکن ہے کہ اسی وقت احتلام ہوا ہو تو ایسی صورت میں اسی وقت سے غسل لازم ہو گا۔

اور اس حالت میں آپ نے جتنی نمازیں پڑھی ہیں ان نمازوں کی قضا آپ کے اوپر لازم ہو گی۔ 

الفتاوى الهندية (1/ 15):
"وإن رأى بللاً إلا أنه لم يتذكر الاحتلام، فإن تيقن أنه ودي لايجب الغسل، وإن تيقن أنه مني يجب الغسل، وإن تيقن أنه مذي لايجب الغسل".
 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008200467
تاریخ25-04-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں