بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

خنثیٰ کی امامت کا حکم

سوال

اگر خنثیٰ نماز پڑھائے تو نماز ہوگی یا نہیں؟

جواب

اگر خنثیٰ میں مرد کی علامات غالب ہیں  تووہ مرد شمار ہوگا اور  اس کی امامت صحیح ہے اور اگرخنثیٰ  میں زنانہ علامتیں زیادہ ہوں یا مردانہ وزنانہ دونوں علامتیں برابر ہوں(جسے خنثی مشکل کہتے ہیں ) تو اس کا مردوں کے لیے امام بننا صحیح نہیں، البتہ اس کے پیچھے عورتوں کی نماز ہوجائے گی۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008200451
تاریخ25-04-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں