بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا کسی بینک میں سیونگ اکاؤنٹ کھولنا جائز ہے؟

سوال

سیونگ اکاؤنٹ کیوں حرام ہے؟  کیا کسی بنک میں سیونگ اکاؤنٹ کھولا جا سکتا ہے؟  سیونگ اکاؤنٹ کے حلال ہونے کی کیا شرطیں ہیں؟

جواب

بینک کے سیونگ اکاؤنٹ میں رقم رکھوانے پر بینک کی طرف سے جو منافع ملتا ہے وہ سود ہونے کی وجہ سے ناجائز اور حرام ہے،بینکوں میں چوں کہ حقیقی تجارت نہیں ہوتی،  بلکہ قرضوں کا لین دین ہوتا ہےاور اسی سے حاصل ہونے والا سود کسٹمرز کو فراہم کیا جاتا ہے؛  اس لیے جب تک حقیقی تجارت  شرعی شرائط کا لحاظ رکھ کر نہ ہو اس کے حلال ہونے کی کوئی صورت کسی بینک میں ممکن نہیں ۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008200445
تاریخ24-04-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں