بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دستخط اور گواہوں کے نام لکھے بغیر دھمکی کی نیت سے تین طلاق لکھ کر بیوی کو بھیجنے کا حکم

سوال

اگر حلف نامہ پر ایک شخص اپنی بیوی کو تین دفعہ لکھ کر طلاق دے کر بھیجے، مگر اس پر کوئی دستخط اور گواہوں کے نام وغیرہ کحچھ بھی نہ ہوں تو کیا طلاق واقع ہوگئی؟ نیز شوہر سے پوچھا گیا تو اس نے کہا کہ میں نے صرف دھمکی دی ہے طلاق نہیں دی۔

جواب

طلاق کی دھمکی کی نیت سےتین دفعہ بیوی کو طلاق لکھ کر دینے سے بھی تین طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں، چاہے دستخط اور گواہوں کے نام لکھے ہوں یا نہ لکھے ہوں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008200437
تاریخ24-04-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں