بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

گزشتہ سالوں کے روزے کا فدیہ کتنا ہوگا اور کسے دے سکتے ہیں؟

سوال

گزشتہ سالوں کے جو روزے رہ گئے ہیں، ان کا فدیہ کتنا ہوگا؟ اور کسے دے سکتے ہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ شخص اگر روزہ رکھنے پر  قادر ہے تو  اس صورت میں گزشتہ سالوں میں جتنے روزے رہ گئے ہیں ان کی قضا کرنا لازم ہے، فدیہ دینا جائز نہیں، البتہ اگر روزہ رکھنے پر  قدرت نہیں ہے اور نہ امید ہے کہ مستقبل میں روزوں کی قدرت ہوگی تو فی روزہ ایک فطرانہ (تقریباً پونے دو سیر گندم یا اس کی قیمت)  بطورِ فدیہ مستحقِ زکات کو دینا لازم ہوگا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008200414
تاریخ23-04-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں