بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نماز کو لفظ ’سلام‘ کے ذریعہ ختم کرنے کا حکم

سوال

نماز میں ’’سلام‘‘ کا کیا حکم ہے؟ اگر کوئی شخص سلام پھیرے بغیر صرف ارادے سے اٹھ جائے تو کیا نماز ہو جاتی ہے؟ حوالہ کے ساتھ راہ نمائی فر ما دیں!

جواب

نماز کو لفظِ ’’سلام‘‘ کے ساتھ ختم کرنا واجب ہے، لہٰذا اگر کوئی شخص لفظ ’’سلام‘‘ کہے بغیر نماز ختم کردےتو اس کی نماز ناقص اور واجب الاعادہ ہوگی۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 468):

"(ولفظ السلام) مرتين فالثاني واجب على الأصح، برهان، دون عليكم". فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008200346
تاریخ21-04-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں