بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جرابوں پر مسح کرنے کا حکم

سوال

کیا جرابوں پر مسح کرنا جائز ہے؟

جواب

واضح رہے کہ وہ اونی یا سوتی موزے جن سے پانی چھن جاتا ہو یا وہ کسی چیز سے باندھے بغیر محض اپنی موٹائی کی وجہ سے پنڈلی پر کھڑے نہ رہ سکتے ہوں یا انہیں پہن کر تین شعی میل مسلسل چلنا ممکن نہ ہو ان پر مسح جائز نہیں ہے۔ موجودہ دور رائج اونی/ سوتی موزوں سے پانی بھی چھنتاہے اور  جوتے کے بغیر انہیں پہن کر مسلسل تین میل شرعی پیدل چلنے سے یہ پھٹ بھی جاتے ہیں، نیز ان کی بناوٹ کے اندر ربڑ/اِلاسٹک لگائی جاتی ہے جس کی وجہ سے یہ قدموں پر رکتے ہیں، محض اپنے گاڑھے پن کی وجہ سے نہیں رکتے؛  لہٰذا ان پر مسح کرنا جائز نہیں ہے۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (1/ 10):
"وأما المسح على الجوربين، فإن كانا مجلدين، أو منعلين، يجزيه بلا خلاف عند أصحابنا وإن لم يكونا مجلدين، ولا منعلين، فإن كانا رقيقين يشفان الماء، لايجوز المسح عليهما بالإجماع". 
قط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008200327
تاریخ20-04-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں