بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سود کی لی ہوئی رقم کا حکم

سوال

سود کی جو رقم لی ہے، اسے واپس جمع کروں یا کسی غریب کو دے دوں؟

جواب

سود کی رقم لینا حرام ہے، البتہ اگر کسی نے سود کی رقم لے لی ہو اور اب وہ اس گناہ سے توبہ اور تلافی کرنا چاہتا ہو تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ سود کی رقم جس سے لی ہو اسی ( رقم کے مالک) کو وہ رقم واپس لوٹادے۔جب تک اصل مالک یا اس کے ورثاء کو لوٹانا ممکن ہو  اس رقم کو صدقہ کرنا جائز نہیں ہے۔

اگر پوری کوشش اور تمام ذرائع استعمال کرنے کے باوجود اصل مالک یا اس کے ورثاء تک پہنچانا ممکن نہ ہو تو ثواب کی نیت کے بغیر اصل مالک کی طرف سے کسی مستحقِ زکات کو دینا ضروری ہوگا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008200290
تاریخ19-04-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں