بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایسی جگہ نوکری کرنا جہاں جمعہ کی نماز پڑھنے کی اجازت نہ ہو

سوال

ایسی ڈیوٹی کرناجس میں مستقل طورپرنمازِ  جمعہ کی ادائیگی ممکن نہ ہو اس کاکیاحکم ہے؟ کئی بار ملازم نے درخواست دی کہ مجھے موقع دیاجاۓ یامیری ڈیوٹی تبدیل کی جاۓ،لیکن وہ لوگ کہتے ہیں کہ یاڈیوٹی کرو یا ریزائن دو۔  نیز سیٹ ہونے میں یہ شخص بہت زیادہ مقروض بھی ہوگیاہے!

جواب

ایسی جگہ نوکری کرنا جہاں جمعہ کی نماز پڑھنے کی اجازت نہ ہو ، مزید یہ کہ کئی بار درخواست کرنے کے بعد بھی اجازت نہ دی جائے شرعاً درست نہیں، کوئی اور نوکری دیکھ لی جائے، باقی جب تک ملازمت ہے جمعہ کی نماز نہ چھوڑیں، اجازت نہ ملے تو بغیر اجازت جمعے کے خطبے سے اتنا پہلے چلے جائیں کہ سنتیں ادا کرکے، جمعہ کا خطبہ سن کر فرض نماز میں جماعت کے ساتھ شریک ہوکر بعد کی سنتِ مؤکدہ پڑھ کر آجائیں، اس سے آمدنی میں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔  فقط واللہ اعلم

باقی قرض کی ادائیگی کے حوالے سے درج ذیل لنک پر فتویٰ ملاحظہ کیجیے:

قرض کی ادائیگی میں آسانی کے لیے اعمال

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008200282
تاریخ18-04-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں