بھنووں کو نوچنے کے بجائے ان پر مہندی لگا کر بنانا
سوال
بھنووں کو نوچنے کے بجائے ان پر مہندی لگا کر اور ان کے ارد گرد جلد پر بلیچ کر کے بھنووں کے شیپ کو واضح کرنے کا کیا حکم ہے جب کہ اس سے مقصد شوہر کے لیے زینت اختیار کرنا ہو؟
جواب
بھنوؤں کو تزئین کے لیے اکھاڑ کر باریک دھار بنانا جائز نہیں، البتہ بھنووں کے بال اگر بڑھے اور پھیلے ہوئے ہوں اور بدنما لگتے ہوں تو ان کو درست کرکے عام حالت کے مطابق کردینا جائز ہے، نیز شوہر کے لیے زینت کی خاطر اکھاڑے بغیر ان بالوں کو رنگا جائے تو یہ صورت حدیث میں بیان کردہ وعید میں داخل نہیں، لہذا عورتوں کے لیے اس کی گنجائش ہے۔
"لَعَنَ اللَّهُ الْمُتَنَمِّصَاتِ ، وَالْمُتَفَلِّجَاتِ"، أَلَا أَلْعَنُ مَنْ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ". (حديث)
"تَنَمَّصَ: (فعل)
- تنمَّصَ يتنمَّص ، تنمُّصًا ، فهو مُتنمِّص
- تَنَمَّصَتِ المرأةُ : نتَفَتْ شعرَ جبينها بخيط وفي الحديث : حديث شريف لُعِنَت النَّامصةُ والمتنمِّصة /
- تَنَمَّصَتِ الماشيةُ : رَعَتْ أَوَّلَ العُشبِ". فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

