بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اپنی ساس کے ساتھ زنا کرنے یا اس کو شہوت سے دیکھنے سے نکاح کا حکم

سوال

کسی مرد کا اپنی ساس کے ساتھ زنا کرنے یا شہوت بھری نظر سے دیکھنے سے کیا اس کا نکاح برقرار رہتا ہے؟

جواب

اگر کوئی مرد اپنی ساس کے ساتھ زنا کرلے تو حرمت مصاہرت  ثابت ہونے کی وجہ سے اس مرد کا اپنی بیوی سے نکاح ختم ہوجائے گا اور اس  کی بیوی اس پر ہمیشہ کے لیے حرام ہوجائے گی، اپنی ساس کو شہوت کی نظر سے دیکھنا حرام ہے، لیکن صرف شہوت کی نظر سے دیکھنے سے حرمتِ مصاہرت ثابت نہیں ہوتی، اس لیے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑتا، البتہ فرجِ داخل کو  شہوت کی نظر سے دیکھنے سے حرمتِ مصاہرت ثابت ہوجاتی ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 32):

"(و) حرم أيضاً بالصهرية (أصل مزنيته) أراد بالزنا في الوطء الحرام (و) أصل (ممسوسته بشهوة) ولو لشعر على الرأس بحائل لايمنع الحرارة (وأصل ماسته وناظرة إلى ذكره والمنظور إلى فرجها) المدور (الداخل) ولو نظره من زجاج أو ماء هي فيه (وفروعهن)". فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008200245
تاریخ17-04-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں