بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا چاقو رکھنا سنت ہے؟

سوال

کیا چاقو رکھنا سنت ہے؟

 

جواب

مسلمانوں کو اللہ کی دین کی سربلندی کے لیے اور اللہ کے دین کے دشمنوں سے جہاد کے لیے ہر وقت تیار رہنے کا حکم ہے، اور اسی تیاری کی غرض سے تلوار وغیرہ اپنے ساتھ  رکھنا مستحب ہے، اور بالخصوص میدان قتال میں موجود مجاہدین  یا سرحدوں پر موجود محافظین کے لیے تلوار اپنے ساتھ رکھنا فضیلت کا باعث ہے، لیکن اس کے علاوہ عام چاقو بے مقصد اپنے پاس رکھنا سنت نہیں ہے۔

تفسير القرطبي (5/ 373):
 وقال الضحاك في قوله تعالى: (وخذوا حذركم) يعني تقلدوا سيوفكم فإن ذلك هيئة الغزاة
. فقط واللہ اعلم

 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008200198
تاریخ15-04-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں