بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

والد کی طرف ماہانہ ضروریات کے لیے بھیجی گئی رقم سے پیسے بچا کر کتابیں خریدنا

سوال

 میں گھر سے دور ایک علاقہ میں پڑھتا ہوں، ضروریات کے لے والد ماہانہ وظیفہ بھیجا کرتے ہیں، اب سوال یوں ہے کہ میں اس پیسے کو بچاتا ہوں اور پھر ان سے اسلامی کتابیں لاتا ہوں کیا ایسا کرنا جائز ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں آپ کے والد صاحب آپ کو  ماہانہ ضروریات اور جیب خرچی کے لیے رقم بھیجتے ہیں تو اس کو آپ اپنی صواب دید پر اپنی ضروریات میں خرچ کرسکتے ہیں اور اس سے پیسے بچا کر کتابیں بھی خرید سکتے ہیں، اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے، بلکہ تحصیل وزیادتی علم کی غرض سے ہو تو قابلِ تحسین ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008200161
تاریخ14-04-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں