والد کی طرف ماہانہ ضروریات کے لیے بھیجی گئی رقم سے پیسے بچا کر کتابیں خریدنا
سوال
میں گھر سے دور ایک علاقہ میں پڑھتا ہوں، ضروریات کے لے والد ماہانہ وظیفہ بھیجا کرتے ہیں، اب سوال یوں ہے کہ میں اس پیسے کو بچاتا ہوں اور پھر ان سے اسلامی کتابیں لاتا ہوں کیا ایسا کرنا جائز ہے؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں آپ کے والد صاحب آپ کو ماہانہ ضروریات اور جیب خرچی کے لیے رقم بھیجتے ہیں تو اس کو آپ اپنی صواب دید پر اپنی ضروریات میں خرچ کرسکتے ہیں اور اس سے پیسے بچا کر کتابیں بھی خرید سکتے ہیں، اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے، بلکہ تحصیل وزیادتی علم کی غرض سے ہو تو قابلِ تحسین ہے۔ فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

