بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حاملہ بیوی کو یہ کہنے ’’ اگر تم نے مجھے  ہمارا بچہ ہونے تک فون کیا تو تم میرے پر طلاق‘‘ سے طلاق کا حکم

سوال

 میں سعودی عرب میں رہتاہوں،  مجھ سے غصے میں بیوی کو یہ نکل گیا کہ اگر تم نے مجھے  ہمارا بچہ ہونے تک فون کیا تو تم میرے پر طلاق، ابھی میری بیوی ساتویں مہینے کی حاملہ ہے. ابھی مجھے ڈر ہوتا ہے، اسے عادت ہے مجھے فون کرنے کی واٹس ایپ یا میسنجر پر. اگر اس سے غلطی سے کال مل گئی واٹس ایپ یا میسنجر پر ، مگر میں اس کو  نہ اٹھاؤں، اور وہ مس کال ہوجائے،  اس صورت میں طلاق واقع ہوسکتی ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر آپ کی بیوی نے بچہ پیدا ہونے سے پہلے آپ کو فون کیا تو اس پر ایک طلاق رجعی واقع ہوجائے گی، چاہے آپ نے فون اٹھایا یا نہیں اٹھایا ، اور عدت کے اندر رجوع کرنے کی صورت میں آپ کا نکاح باقی رہے گا، ورنہ عدت گزرنے کے بعد نکاح ختم ہوجائے گا اور بیوی بائنہ ہوجائے گی، پھر دوبارہ ساتھ رہنے کے لیے جانبین کی رضامندی سے نئے مہر کے ساتھ دو گواہوں کی موجودگی میں نکاحِ جدید  کرنا پڑے گا، لیکن آپ کے پاس پھر مزید صرف دو طلاقوں کا اختیار باقی رہ جائے گا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008200159
تاریخ14-04-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں