بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسافرین کا مسجد میں دوسری جماعت کرانا

سوال

مسجد میں دو جماعتیں کرنا کیسا ہے؟  اگر مسافر ہو تو دوسری کوئی جگہ موجود نہ ہو جیسے کے تبلیغ میں نکلے ہوں؟

جواب

وہ مسجد جس میں پنج وقتہ نمازوں کے لیے امام ومؤذن مقرر ہو، اس میں دوسری جماعت کرانا شرعاً منع ہے، اگر مسافر کسی ایسی مسجد  میں پہنچیں جو راستے کی مسجد ہو اور امام و مؤذن مقرر نہ ہوں تو ایسی مسجد میں دوسری جماعت کرا سکتے ہیں۔ اور اگر ایسی مسجد ہو جہاں امام و مؤذن بھی مقرر ہوں اور جماعت ہو چکی ہو تو ایسی صورت میں مسجد کی حدود سے باہر متصل کسی جگہ پر جماعت کرا لینی چاہیے، مسجد میں دوسری جماعت کرانا درست نہیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008200155
تاریخ14-04-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں