بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حنفی المسلک امام کا شافعی المسلک مقتدیوں کی مسجد میں نماز پڑھاتے ہوئے نماز فجر میں قنوت پڑھنے کا حکم

سوال

کیا حنفی المسلک امام, شافعی المسلک مسجد میں امامت کراتے ہوئے فجر کی نماز میں قنوت پڑھ سکتا ہے؟

جواب

شوافع کے نزدیک فجر کی نماز میں قنوت مشروع ہے، احناف کے نزدیک حوادث وآفات کے علاوہ عام حالات میں قنوتِ فجر مشروع نہیں ہے، اس لیے حنفی امام کو شافعی المسلک مقتدیوں کی مسجد میں نماز پڑھاتے ہوئے بھی فجر کی نماز میں قنوت نہیں پڑھنا چاہیے، کیوں کہ فقہاء نے شافعی امام کی اقتدا میں نماز پڑھنے والے حنفی  مقتدی کو بھی امام کی متابعت واجب ہونے کے باوجود قنوتِ فجر پڑھنے کی اجازت نہیں دی ہے، بلکہ شافعی امام کے فجر کی نماز میں قنوت پڑھنے کی صورت میں ہاتھ چھوڑ کر خاموش کھڑا رہنے کا کہا ہے، تو پھر حنفی امام کو شافعی المسلک مقتدیوں کی رعایت میں فجر کی نماز میں قنوت پڑھنے کی اجازت کیسے دی جاسکتی ہے!

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 8):

"(ويأتي المأموم بقنوت الوتر) ولو بشافعي يقنت بعد الركوع؛ لأنه مجتهد فيه (لا الفجر)؛ لأنه منسوخ (بل يقف ساكتاً على الأظهر) مرسلاً يديه.

 (قوله: لأنه منسوخ) فصار كما لو كبر خمساً في الجنازة حيث لايتابعه في الخامسة، بحر.

(قوله: بل يقف) وقيل: يقعد، وقيل: يطيل الركوع، وقيل: يسجد إلى أن يدركه فيه، شرنبلالية (قوله: مرسلاً يديه)؛ لأن الوضع سنة قيام طويل فيه مسنون، وهذا الذكر ليس بمسنون عندنا". فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008200152
تاریخ13-04-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں