بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

فوج داری اور دیوانی مقدمات کون سے ہوتے ہیں ؟

سوال

میں ایک نجی ادارے میں پڑھاتاہوں اور معاشرتی علوم کا استاد ہوں، دیوانی اور فوج داری مقدمات کون سے ہوتے ہیں؟میری راہ نمائی کیجیے۔ 

جواب

جنایات اور عقوبات (یعنی چوری، ڈکیٹی، زناکاری،قتل وغیرہ اور ان کی سزاؤں) سے متعلق مقدمات ”فوج داری“ کہلاتے ہیں،  اور معاملات (خرید وفروخت یا جائے داد وغیرہ) سے متعلق مقدمات ”دیوانی“ کہلاتے ہیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008200142
تاریخ13-04-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں