فوج داری اور دیوانی مقدمات کون سے ہوتے ہیں ؟
سوال
میں ایک نجی ادارے میں پڑھاتاہوں اور معاشرتی علوم کا استاد ہوں، دیوانی اور فوج داری مقدمات کون سے ہوتے ہیں؟میری راہ نمائی کیجیے۔
جواب
جنایات اور عقوبات (یعنی چوری، ڈکیٹی، زناکاری،قتل وغیرہ اور ان کی سزاؤں) سے متعلق مقدمات ”فوج داری“ کہلاتے ہیں، اور معاملات (خرید وفروخت یا جائے داد وغیرہ) سے متعلق مقدمات ”دیوانی“ کہلاتے ہیں۔ فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر
144008200142
تاریخ13-04-2019

