بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کھڑی فصل کا بھوسہ خریدنا یا  بیچنا

سوال

کھڑی فصل کا بھوسہ خریدنا یا  بیچنا از روئے شریعت جائز ہے یا ناجائز؟

جواب

کھڑی فصل کاٹنے سے پہلے اس کے بھوسے کی خرید و فروخت کرنا شرعا جائز نہیں،البتہ خرید و فروخت کا وعدہ کرنا جائز ہے۔

درر الحكام شرح مجلة الأحكام - (1 / 156):
"بَيْعُ الْمَعْدُومِ بَاطِلٌ؛ فَيَبْطُلُ بَيْعُ ثَمَرَةٍ لَمْ تَبْرُزْ أَصْلًا. الْمَعْدُومُ إمَّا أَنْ يَكُونَ مَعْدُومًا حَقِيقَةً، أَوْ مَعْدُومًا عُرْفًا، وَالْمَعْدُومُ عُرْفًا هُوَ الْمُتَّصِلُ اتِّصَالًا خِلْقِيًّا بِغَيْرِهِ، وَبَيْعُ الْمَعْدُومِ سَوَاءٌ أَكَانَ حَقِيقَةً أَمْ عُرْفًا بَاطِلٌ. ( اُنْظُرْ شَرْحَ الْمَادَّةِ 97 1 ) ... وَكَذَلِكَ بَيْعُ التِّبْنِ وَهُوَ فِي السُّنْبُلِ قَبْلَ التَّذْرِيَةِ بَاطِلٌ؛ لِأَنَّ التِّبْنَ لَايَكُونُ مِنْ السُّنْبُلِ إلَّا بَعْدَ الدِّرَاسِ فَبَيْعُهُ قَبْلَ ذَلِكَ بَيْعٌ لِلْمَعْدُومِ". 
فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008200126
تاریخ12-04-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں