بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک پلاٹ بیچ کر دوسرے پلاٹ پر گھر بنانے کی نیت کرنا

سوال

میں اسلام آباد میں جاب کرتا ہوں، اور یہاں میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ جس سے میں اپنا گھر خرید سکوں، میری اکثر تنخواہ کرائے میں چلی جاتی ہے۔اس لیے میں نے اپنے تھوڑے پیسوں سے ٹیکسلا میں پلاٹ خریدا ہے ہے؛ تاکہ یہ تھوڑی رقم محفوظ رہے اور جب مزید رقم آجائے تو میں اسلام آباد میں ایک گھر خرید لوں، تو کیا میرے ٹیکسلا والے پلاٹ پر پر زکاۃ  ہے یا نہیں؟جب کہ میں نے یہ پلاٹ تجارت کی نیت سے نہیں خریدا بلکہ مجبوراً خریدا ہے.

جواب

آپ نے جو پلاٹ ٹیکسلا میں اس لیے خریدا ہے تاکہ مستقبل میں اس کو بیچ اسلام آباد میں ایک گھر لیا جائے۔تو ٹیکسلا والے پلاٹ کو  بیچنا مقصود ہے؛ لہذا اس پلاٹ کی قیمت میں بھی آپ پر زکاۃ لازم ہے۔

واضح رہے کہ تجارت کی نیت سے لینے کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ عرف میں آدمی اس چیز کا تاجر ہو، بلکہ جس چیز کی بھی خرید و فروخت نفع کی نیت سے کی جائے یہی تجارت کی حقیقت ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008200103
تاریخ11-04-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں