بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اشراق کی نماز کا وقت

سوال

 طلوعِ آفتاب کے بعد کتنے منٹ کے بعد اشراق پڑھنا افضل ہے؟

جواب

روایات میں آتا ہے کہ اشراق کا وقت اس وقت ہے جب سورج ایک یا دو نیزے بلند ہو جائے اور ایک نیزے کے بقدر بلند ہونے میں کم از کم دس منٹ لگتے ہیں، اس لیے سورج طلوع ہونے کے دس منٹ بعد نماز پڑھنا جائز ہوجاتاہے اور اشراق کا وقت بھی شروع ہوجاتاہے، البتہ احتیاط یہ ہے کہ بیس منٹ (دونیزہ بلند ہونے تک) انتظارکیا جائے، جیساکہ حضرت شیخ الحدیث صاحب رحمہ اللہ نے بھی لکھا ہے، درمیانہ درجہ پندرہ منٹ ہے۔

مرقاة المفاتیح شرح مشکاة المصابیح ۲؍۲۴:

" قال الطیبي: أي ثم صلی بعد أن ترتفع الشمس قدر رمح حتی یخرج وقت الکراهة وهذه الصلاة تسمی صلاة الإشراق".

طحطاوی علی المراقی ۱۰۰:

"أولها عند طلوع الشمس إلی أن ترتفع الشمس وتبیض قدر رمح أو رمحین". فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144008200008
تاریخ07-04-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں