بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 جُمادى الأولى 1448ھ 28 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

آیان یا عایان نام رکھنا

سوال

میرے بیٹے کا نام محمد آیان تھا جو کہ بعد میں عایان کر دیا گیا اور مجھے کسی نےکہاکہ آپ اعیان لکھاکرو۔ کیا ہم یہ نام رکھ لیں یا پھرنام ہی تبدیل کر لیں محمد ریان یا پھر محمد ریحان؟ بچے کی عمر بھی 6 سال ہے۔

جواب

’’ایان‘‘  کا درست تلفظ ’’ا‘‘ پر زبر ’’ی‘‘  پر تشدید ہے، اور کلامِ عرب میں یہ اسمِ شرط  ہے، جس کا معنی  "کب" ہے، لہذا یہ نام نہ رکھا جائے۔ ایان، عایان، یا اعیان کے بجائے ’’عَیَّان‘‘ (عین کے زبر اور یا کی تشدید کے ساتھ) نام رکھا جا سکتا ہے جس کے ایک معنی کشادہ آنکھوں والا کے آتے ہیں۔ "رَیَّان" را کے زبر ، یا کی تشدید اور زبر کے ساتھ ہے، اس کا معنی "سیراب کرنے والا "ہے، "ریان" جنت کا ایک خاص دروازہ ہے جس سے صرف روزہ دار داخل ہوں گے۔ "محمد ریان" نام بھی رکھ سکتے ہیں۔ 

’’ أيّان : (معجم الرائد) (اسم) 1- إسم شرط للزمان يجزم فعلين ، نحو : « أيان تدرس تنجح » 2- إسم استفهام بمعنى « متى » ، نحو : أيان ترجع؟ »‘‘. فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144007200615
تاریخ06-04-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں