بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ربیع الثانی 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

موبائل میں ویڈیو رکھنے کا حکم

سوال

 کیا ہم علماءِ  کرام کی ویڈیو تقاریر اپنے موبائیل میں رکھ سکتے ہیں؟

جواب

شریعتِ مطہرہ میں جان دار کی تصویر بنانامطلقاً حرام ہے خواہ وہ تصویر کی صورت میں ہو یا ویڈیو کی شکل میں، خواہ وہ علماء کی ہو یا دیگر لوگوں کی، نیز جس طرح تصویر بنانا شرعاً ممنوع ہے اسی طرح اس کو محفوظ رکھنا بھی ممنوع ہے؛ لہذااپنے موبائل میں جان دار کی تصاویر پر مشتمل ویڈیو رکھنا درست نہیں، البتہ بلاتصویر تقاریر رکھنا جائز ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144007200609
تاریخ06-04-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں