بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پارک کو مسجد میں شامل کرنا

سوال

مجھے ایک مسجد کے بارے میں سوال کرنا ہے جس کے قریب ایک پارک ہے،  مسجد کافی کشادہ ہے، لیکن اس مسجد کے امام صاحب اس پارک  کا کچھ حصہ مسجد کے  لیے لے رہے ہیں جو کہ قانوناً درست نہیں ہے، اور جب کوئی ان کو بتائے تو وہ اس اس کو کہتے ہیں کہ تم مسلمان نہیں ہو۔براہِ  کرم اس کا جواب دیں۔

جواب

مسجد کے کشادہ ہونے کے باوجود پارک کی جگہ کو جو کہ عام لوگوں کے لیے حکومت کی طرف سے مختص کی گئی ہومسجد میں شامل کرنا اور اس پر مسجد بنانا،شرعا بھی درست نہیں ہے، البتہ اگر کسی وقت جمعے کی نماز وغیرہ میں جگہ کی تنگی کی وجہ سے صفیں پارک میں بھی بچھا دی جائیں تو اس میں کوئی حرج نہیں۔

کسی شخص کے تنبیہ کرنے پر یہ کہنا  ’’تم مسلمان نہیں ہو‘‘ درست نہیں ہے، اگر واقعۃ ایسا کہا ہے تو بہت بری بات ہے۔

 الھندیۃ: قال ابویوسف رحمہ اللّٰہ تعالٰی اذا غصب ارضاً فبنی فیھا مسجدًا او حمامًا او حانوتًا فلابأس بالصلٰوۃ فی المسجد۔ (ج؍۵،ص؍۳۲۰ کتاب الکراھیۃ)

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144007200591
تاریخ05-04-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں