بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

21 جُمادى الأولى 1448ھ 02 نومبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نمازی کے سامنے سے عورت کا گزرنا

سوال

نمازی کے سامنے سے اگر عورت گزرجائے تو کیااس سے نماز ٹوٹ جائے گی؟

جواب

نمازی کے سامنے سے اگرعورت گزر جائے تو اس سے نمازی کی نماز فاسد نہیں ہوتی ۔البتہ جان بوجھ کر نمازی کے سامنے سے گزرنا (خواہ گزرنے والا مرد ہو یا عورت) سخت گناہ ہے۔

المبسوط للسرخسی میں ہے :

"والدليل على أن مرور المرأة لايقطع الصلاة ما روي أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يصلى في بيت أم سلمة فأراد عمر بن أبي سلمة أن يمر بين يديه فأشار عليه فوقف ثم أرادت زينب أن تمر بين يديه فأشار عليها فلم تقف فلما فرغ من صلاته قال: "هن أغلب صاحبات يوسف يغلبن الكرام ويغلبهن اللئام". (1/350،ط:دارالفکر)فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144007200582
تاریخ05-04-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں