بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 جُمادى الأولى 1448ھ 28 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ذاتی رہائش ہوتے ہوئے آفس سے کرایہ کی مد میں رقم وصول کرنا

سوال

میرا بھائی اٹامک  انرجی میں نوکری کرتا ہے، اس کو  کرایہ کی رہائش کی مد میں 14000 ملتے ہیں،  اس نے ایک گھر کرایہ پر لیا ہوا ہے، مگر وہ اس گھر میں نہیں رہتا ہے، گھر کا مالک کوئی اور ہے، جب کہ کاغذات میں گھر کرایہ پر ظاہر کیا گیا ہے، مالکِ مکان کرایہ نہیں لیتا ہے ، میرے بھائی کے آفس سے ملنے والا کرایہ مالک مکان پورا کا پورا میرے بھائی کو بھیج دیتا ہے، سوال یہ ہے کہ یہ کرایہ میرے بھائی کے لیے جائز ہے یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر ذاتی رہائش ہونے کی صورت میں متعلقہ ادارے کی طرف سے کرایہ کی سہولت نہیں دی جاتی، تو جعلی رینٹ ایگریمنٹ پر کرایہ کی مد میں رقم وصول کرنا، دھوکا دہی کے زمرے میں آنے کی وجہ سے شرعاً جائز نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144007200580
تاریخ04-04-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں