بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دعائے قنوت یاد نہ ہونے کی صورت میں کیا پڑھے؟

سوال

 اگر دعائے قنوت یاد نہ ہو تو کوئی اور دعا پڑھنے سے کیا نمازِ  وتر ادا ہو جائے گی یا دعائے قنوت ہی پڑھنا واجب ہے؟

جواب

خاص دعاءِ قنوت پڑھنا سنت ہے، اور کوئی بھی دعا پڑھنا واجب ہے۔لہذا جب تک دعائے قنوت یاد نہ ہو تو اس کی جگہ تین مرتبہ ’’اَللّٰهُمَّ اغْفِرْلِيْ‘‘ پڑھ لے، یا درج ذیل دعا پڑھے:

{رَبَّنَآ اٰتِنَا فِی الدُّنْيَا حَسَنَةً وَّفِی الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِo } (البقرۃ، 2 : 201) 

لیکن جتنا جلدی ہوسکے دعائے قنوت یاد کرلے؛ تاکہ سنت  کے مطابق وتر کی نماز ادا ہو۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (1/ 167):
"القنوت، فتركه سهواً يوجب سجود السهو؛ لأنه واجب؛ لما نذكر في موضعه". 
فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144007200578
تاریخ04-04-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں