بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

رومن الفاظ میں سلام لکھنا

سوال

کچھ لوگ رومن یا انگلش میں سلام کو جائز اور کچھ ناجائز کہتے ہیں، آپ کے فتوی کے مطابق جائز ہے۔  اگر آپ فتوی کے ساتھ حوالہ بھی تحریر کریں؛ تاکہ استفادہ مزید آسان ہوسکے!

جواب

ملاقات کے وقت بطورِ تخاطب اسلام نے ہمیں تحیہ کے جو کلمات سکھائے ہیں وہ عربی زبان میں ہیں، اس لیے زبانی طور پر سلام کرتے ہوئے تو سلام کے وہی الفاظ ادا کرنے چاہییں جو رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات ہیں۔ جہاں تک بات ہے سلام کے کلمات رومن یا انگلش الفاظ میں لکھنے کی! تو اس کے عدمِ جواز کی کوئی دلیل نہیں ہے، اس لیے یہ مباح ہے۔ تاہم بہتر یہ ہے کہ جس کو عربی/ اردو رسم الخط میں سلام کے کلمات لکھنے کی سہولت حاصل ہو وہ عربی زبان میں یہ کلمات لکھے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144007200561
تاریخ04-04-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں